ہم ‘آئی ایس آئی اورپاکستان

8 سال ago yasir 0

آئی ایس آئی دنیامیں بسنے والے کم وبیش294ممالک کی تمام عسکری افواج اور صلاحیتوں کوچیلنج کرنے اوروطن عزیزکی بقاء اورسا لمیت کی جنگ لڑرہی ہے جو ہمارا فخر اور غرور ہے یہ ادارہ جس پرہرپاکستانی کونازہے ماسوائے ان کے جوپاکستان سے دشمنی اور انڈیا’امریکہ کی غلامی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں دنیاکی تمام سپرپاورزاپنی عددی برتری ‘ٹیکنالوجی اور مواسلات پرقبضہ کے باوجودآئی ایس آئی کامقابلہ نہیں کرپارہیں آج بھی ہماری آئی ایس آئی دنیاکے بہترین اداروں میں صف اول میں موجودہے جب کوئی فوج اوراس کے ذیلی ادارے آئی ایس آئی کوبراکہتاہے تومیراسرشرم سے جھک جاتاہے اورمیں سوچتاہوں کہ ہم وہ لوگ ہیں جس درخت کی شاخ پرگھونسلہ بناتے ہیں اسے ہی کاٹناشروع کردیتے ہیں تمام دنیاکی خفیہ ایجنسیزکاکام کیاہوتاہے ؟اپنے ممالک کے مفاداوردشمن ملک چالوں کوناکام بناکراپنے ملک کومضبوط سے مضبوط تربنانااس مقصدکیلئے امریکہ’ اسرائیل ‘بھارت ‘افغانستان اورروس سے لیکرتمام بڑے اورچھوٹے ممالک اسی ایک نقاطی ایجنڈے پرعمل کرتے ہیں اوراس مقصدکوپوراکرنے سے کبھی وہ سیاستدانوں کو خرید کر اپنا مقصد پورا کرتے ہیں کبھی دشمن ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلا کر لبھی رنگ ‘نسل زبان اورعلاقائی تفریق پیداکرکے اورکبھی غربت اورافلاس میں پسے ہوئے لوگوں کوپیسے دیکر اپنا مقصدپوراکرتے ہیں ایسی تنظیمیں کبھی را اورکبھی سی آئی اے کے ذریعے سیاست میں داخل ہو جاتی ہیں اوراپنے لے پالک اولاد کے ذریعے ملک کوناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیںدنیاکی سپرپاورامریکہ میں سی آئی اے تمام ترسیاسی معاملات میں اہم کرداراداکرتاہے اسی طرح انڈیامیں را’روس میں کے جی بی اوراسرائیل میں موساداوردیگرتنظیمیں اپنا اپنا کردارا داکرتی ہیں میرے وطن کی مٹی میں شائدکچھ ایسی بات ہے کہ 70سالوں سے ملک کوکھابھی رہے ہیں اوراس کے خلاف زہربھی اگل رہے ہیں جب سے پاکستام معرض وجودمیں آیاہے اس کے خلاف سازشوں کاجال بُن اجاتارہاکبھی اگرتلہ سازش کیس’ کبھی سقوط ڈھاکہ’ کبھی آزادکشمیرپرچڑھائی’کبھی محلاتی سازشوں کا نہ تھمنے والا پروگرام کبھی فوج کواورسیاست کوالگ کرنے کبھی اداروں کا ٹکرائواس ساری کہانی میں اداکاربدلتے رہے کبھی مجیب الرحمن کبھی خان عبدالولی خان’ کبھی الطا ف حسین کبھی اچکزئی اورکبھی بھارت نواز حکمران اورکبھی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداراصل کہانی یہ ہے کہ آئی ایس آئی سیاست اور دیگر امورمیں شامل کیوں ہوتی ہے؟یہ ہے اصل سوال جب ملک کی حفاظت کاحلف اٹھانے والے ذاتی مفادکوترجیح دینے لگتے ہیں جب حکمرانی کے نشے میں آکرملک کاسرمایہ باپ کی جاگیرسمجھ کر لوٹنا شروع کردیتے ہیں جب ذاتی مفادکوملکی مفاد پر ترجیح دی جانے لگتی ہے جب پکڑے جانے کے ڈرسے اس ادارے کیخلاف مہم چلائی جاتی ہے جب قانون کے رکھوالے قانون شکنی کو اپنا شکار بنالیتے ہیں اورجب آستین کے چھپے سانپ اپنوں کوہی ڈسناشروع کردیتے ہیں پھرآئی ایس آئی حرکت میں آتی ہے اوراپنے نشان ”مارخور”جس کو سانپ مارکرکھانابہت پسندہے شکارپرنکل کھڑی ہوتی ہے دیگرممالک ایسی خفیہ ایجنسیزکے خلاف بات کرنے والے کوسزائیں دی جاتی ہیں اوروہ ممالک اپنی ایسی خفیہ تنظیموں کے کام میں ان کی حمایت کرتی ہیں جبکہ ہماراملک اوراس میں بسنے والے چندافراداس ادارے کو برباد کرنے پرتلے ہوئے ہیں اگرامریکہ ‘روس فرانس’ جرمنی’ برطانیہ’ اوردیگرترقیاتی ممالک میں ایسے اداروں کی نقل و حرکت پرپابندی ہے توپھرپاکستان پربھی یہ قانون لاگو ہوناچاہیے ورنہ ایسے افرادجواپنے عہدے کاناجائزفائدہ اٹھاکرذاتی فائدے کوملکی فائدے پرترجیح دیں ان کیلئے آئی ایس آئی کاحرکت میں آناعین قانون کے مطابق ہے تازہ ترین سازش جس میں ایک معززجج نے پبلک مقام پراپنے ہی حلف دی دھجیاں اڑادیں اور آئین پاکستان میں بڑے واضح الفاظ میں درج ہے کہ افواج پاکستان اورعدلیہ کیخلاف بات نہیں کی جائیگی لیکن کیاکریں ایسی سوچ رکھنے والے افرادکاملک کی سا لمیت دائوپرلگا کرخو د کوبچانے میں مصروف ہیں میری اپیل ہے چیف جسٹس آف پاکستان سے کہ اگرآج ایسی حرکت پرکسی مصلحت کے سبب خاموشی اختیارکی گئی توآنے والے وقت میں ہرکوئی جس کاجی چاہے گا جوجی چاہے گاملک اورملک کے اداروں کے خلاف زہراگلتارہے بس بھئی بس زیادہ ڈھیل نہیں چیف صاحب۔
24جولائی2018