بیل گاڑی ‘پاکستان اوربابارحمتے

7 سال ago yasir 0

دیہاتی ماحول سے آشنالوگ جانتے ہیں کہ جب کسان اپنے گڈے(بیل گاڑی) پربیٹھ کراپنے کھیتوں میں جاتاہے اوروہاں سے چاراکاٹ کراس بیل گاڑی پررکھ کرواپس آتاہے تواس کے گھر میں ایک پالتوں جانوربیل گاڑی کے عین نیچے بڑے فخرسے خراماں خراماں چل رہاہوتاہے اوریوں محسوس کرتاہے کہ جیسے بیل گاڑی پررکھاہواچارااس کے کندھوں پرہے اوروہ اسے لیکرچل رہاہے حالانکہ اس گڈے کوچلانے والے دوبیل ہوتے ہیں جویہ سارابوجھ اپنے کندھوں پراٹھاکرچل رہے ہوتے ہیں آج مجھے یہ مثال شدت سے یادآتی ہے جب میرے وطن عزیزکے نام نہادحکمران ‘ سیاستدان ‘سکالر’مفکر’ دین کے ٹھیکیدارعلماء اورمختلف لسانی ‘صوبائی اورعلاقائی افرادکی ترجمانی کرنے والے اس بیل گاڑی کے نیچے چلنے والی مخلوق کی ترجمانی کرتے ہیں اورخیال کرتے ہیں کہ یہ پاکستان ہم سے ہے اگرہم نہ ہوں گے توخدانخواستہ یہ پاکستان نہ ہوگاپاکستان لاالہ اللہ کے نام پر بنا ہے یہ انشاء اللہ قیامت تک قائم ودائم رہے گاالبتہ بقول شاعر(تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں)کس کس کانام لوں قیام پاکستان سے لیکرآج تک پاکستان کی شدید مخالفت کرنے والے آج پھرکہتے ہیں کہ اگرکالاباغ ڈیم بناتوپھرپاکستان نہیں رہے گااس پاکستان کو بنانے میں ان نام نہادسیاستدانوں کاکتناہاتھ ہے؟جوآج بھی ترنگے جھنڈے کو سلامی دینا فخر سمجھتے ہیں جوآج بھی پاکستان کیخلاف سازشوں کاحصہ بنتے ہیں اورتواورہماری سیدھی سادھی عوام بھی ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ہمارے ملک پربلاشرکت غیرے قریبا ً30سال تک حکومت کرنے والے آج ملک کے رازوں سے پردہ اٹھاکرملک کوکمزورکررہے ہیں وجہ صرف اورصرف کہ اگرہم ہیں توپاکستان ہے ورنہ کچھ نہیں یہ سوچ آج کی نہیں بلکہ صدیوں پرانی ہے فرعون نے بھی اس قسم کادعویٰ کیاتھااللہ نے اسے بربادکردیاانشاء اللہ آج کے دورکے فرعون بھی بربادہوجائیں گے لیکن پاکستان ہمیشہ قائم رہے گاآج کل ایک نئی بیماری نے جنم لیاہے اوروہ ہے سابقہ حکمرانوں’ جرنیلوں اور خود ساختہ لکھاریوں نے وطن عزیزکے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھانے کیلئے کتابیں لکھی جاتی جس میں اپنے سیاسی قدعہدے اوربین القوامی تعلقات کے بل بوتے پرملک کوتنہاکیاجاتاہے آج وطن عزیزکوباہرکے دشمن سے زیادہ اندرکے بھیدی سے خطرہ ہے جوہماری صفوں میں موجودہیں اورہم پرہی حملہ کررہے ہیں جواداروں کاٹکرائوچاہتے ہیں جوعدلیہ پرحملہ کرتے ہیں جوفوج کوبدنام کرتے ہیں جوذاتی مفادکیلئے اپنے زرخریدغلاموں سے کام لے کرملک میں کرپشن کابازارگرم کیے ہوئے ہیں سندھ کاہاری آج بھی غربت کی آخری حدمیں زندگی گزاررہاہے آج بھی وڈیروں کی ذاتی جیلوں میں نسل درنسل لوگ قیدہیں آج بھی بنیادی ضرورتیں میسر نہیں۔ تھرکے لوگ آج بھی پانی کی بوندبوندکوترس رہے ہیں چولستان آج بھی جل رہاہے پنجاب کامزدورآج بھی کاروباری طبقے کیلئے ایندھن بن کرجل رہاہے جبکہ امیرامیرترین اورغریب غریب ترین ہوتاجارہاہے یہ تفریق کب ختم ہوگی؟یہ ملک کب درست سمت چلے گا؟اللہ تعالیٰ نے اس ملک کولامحدودوسائل دیئے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمیں حکمران بے ایمان اورمفادپرست ملے ہیں جوصرف یہ سوچتے ہیں کہ ہم سے پاکستان ہے اورہم نہیں توپاکستان نہیں کاش ہمیں ایسے حکمران مل جائیں جویہ سوچیں کہ ہم پاکستان سے ہیں اگرپاکستان ہے توہم ہیں ورنہ ہماری پہچان کچھ بھی نہیں ملک اس وقت ترقی کرے گا جب اس سوچ کے حامل ہمارے ملک کے حکمران ہوں گے ہمارے لکھاری پاکستان کیلئے لکھیں ہمارے دانشورپاکستان کیلئیسوچیں ہمارے بیوروکریٹ ذاتی فائدے کی بجائے ملکی فائدے کوترجیح دیں ہمارے حکمران ملک پرحکمرانی کرنے کی بجائے خادم بن کرآئیں پاکستان اس وقت ترقی کرے گاجب میرے ملک کی عدالتیں انصاف کریں گی اورانصاف ہوتاہوانظرآئیں گا میں اللہ کاشکرگزارہوں کہ پچھلے دوسالوں سے ملک میں انصاف کیلئے بہت مثبت تبدیلی آئی ہے لیکن یہ توآغازہے اس کورکنانہیں چاہیے انصاف کیلئے امیر اور غریب کے فرق کومٹاناہوگاوہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں جہاں انصاف نہ ہواورقومیں ترقی کی منزلوں کوچھولیتی ہے جوصرف انصاف کی بنیادپرقائم ہوں حضرت عمراپنے بیٹے کوجرم میں 80درے مارنے کاحکم دیں 70درے مارنے کے بعد موت واقع ہو جائے تو 10 درے اس کی قبرپرماریں جائیں پھرجرم کرنے والے کو ہزار بار سوچنا ہو گا چیف جسٹس صاحب میں ذاتی طورپرآپ کواس قوم کاہیرومانتاہوں جس نے وقت کے جابر حکمران کے سامنے قانون اورانصاف کابول بالاکرنے میں اپناحق اداکررہے ہیں تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جب انصاف کرنے والوں نے کسی ظالم کورعایت دی اس نے ملک میں تباہی ‘ بربادی اورافراتفری پیداکی ہے اب قوم اپنی پرچی سے اس ظلم کے بازار کو بند کر سکتی ہے آج ملک قرضوں کے بوجھ کے نیچے دب چکاہے آج بیرونی دنیااکھٹی ہوکرملک کودیوالیہ کرنے ‘دہشتگردقراردینے اوراندرونی محاذ پرکمزورکرنے کے درپے ہے آج ہمارے حکمران دشمن کی زبان بول رہے ہیں آج ملک کے ادارے ایک دوسرے کے دست وگریباں ہیں بس ایک ہی روشنی کی کرن جونظرآتی ہے وہ ہے عدلیہ اوروہ ہے انصاف کابول بالا افواج پاکستان سرحدوں کی حفاظت کی امین ہے توعدلیہ پاکستان کی قانون کی محافظ ہے آج ہمیں بیل گاڑی(گڈے)کے نیچے چلنی والی مخلوق بن کرسوچنے کی بجائے ٹیم ورک پر دھیان دیناہوگااوران حکمرانوں اورایسے سیاستدانوں کوایک مشورہ ہے کہ پاکستان 20لاکھ انسانوں کی قربانی کے بعدملاہے اس لئے پاکستان ہے توہم ہیں پاکستان ہے توآج ہم سندھی ‘بلوچی بھی افغانی بھی سرائیکی بھی پختون اورپنجابی بھی ہے یہ سب اکائیاں ملیں تو ایک پاکستان بنتاہے اس لیے اگرپاکستان ہے توہم سب ہے ورنہ ہماری پہچان گاڑی کے نیچے چلنے والے جانورسے زیادہ کچھ نہیں’ ملک انشاء اللہ قائم رہے گااورچلتارہے گا۔
4جون 2018