حرف حرف لہولہو
7 سال ago yasir 0
ایک وسیع عریض میدان میں لوگوں کاہجوم لگاہواتھاکان پڑی آوازسنائی نہ دیتی تھی جس طرف بھی نظردوڑائیں ہرطرف انسان ہی انسان نظرآرہے تھے جوغصے میں آگ بگولاہورہے تھے اورایک ہی آوازسنائی دیتی تھی کہ مارڈالوچھوڑنانہیں ختم کردوچشم تصورمیں میں بھی اس ہجوم کاحصہ بن گیااوردیکھتاہوں کہ یہاں بڑی بڑی داڑھیوں والے مولاناصاحبان سے لیکرسکالر’مفکر’نوجوان ‘بوڑھے ‘جوان الغرض ہرمکاتب فکرکے لوگ موجودتھے میں ہجوم میں بمشکل راستہ بناتے ہوئے جب میدان کے درمیان میں پہنچا تو عجیب ماحول دیکھنے کوملاکہ ایک خوبصورت نوجوان کوزمین میں کمرتک گاڑاہواہے اور اس کے سامنے علماء کرام جن کی شکل وصورت سے روب اوردبدبہ نمایاں نظر آتا تھا اور سارامجمہ ان کے اشارہ ابروکامنتظرتھاہاتھوں میں پتھرلیے تیارکھڑے اس نوجوان کو سنگسار کر دیاجائے میں نے ڈرتے ڈرتے ایک باریش انسان سے پوچھاباباجی اس نوجوان نے ایساکونساجرم کیاہے جواس کویہ سزادی جارہی ہے تواس بابے نے بڑے تکبرسے میری طرف دیکھاجیسے میں نے اس کے سامنے بے ادبی کردی ہوکہایہ بدبخت زانی ہے اوراس کوسنگسارکرناعین قانون کے مطابق ہے اس سے پہلے میں کوئی اورسوال کرتاوہ نوجوان زورسے چلایااوراس نے کہاکہ آپ مجھے ضروسنگسارکریں لیکن میں مرنے سے پہلے ایک آخری خواہش کا اظہار کرناچاہتاہوں ویسے ہی جیسے پھانسی چڑھنے والے کسی شخص سے اس کی آخری خواہش پوچھی جاتی ہے امیدہے میری آخری خواہش کااحترام کیاجائیگاسب سے معتبرشخص نے کہاکہ اپنی خواہش پیش کروتواس نوجوان نے جس کوکمرتک زمین میں گاڑھاجاچکاتھاکہاکہ میرے جرم کی سزاسنگسارکرناہے جومجھے منظورہے میری بس یہ التجاہے کہ مجھے صرف اورصرف وہی شخص پتھرمارے جس نے یہ گناہ اپنی زندگی میں نہ کیاہونوجوان کی یہ بات سن کرسارے مجمے کوسانپ سونگھ گیااورہرکوئی ایک دوسرے سے نظریں ملائے بغیرخاموشی سے میدان سے باہرجانے لگایہ کہانی کسی اورکی نہیں میرے اپنے وطن عزیزکی کہانی ہے میں پچھلے کئی دنوں سے ان سوچوں میں رہتاہوں کہ یہ سیاستدان’یہ مذہبی سکالرزیہ الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاوالے حکومتیں گزارنے اوربنانے کے ماہرسے لیکرآلو’پیازبیچنے والے بھی اس سنگ باری میں حصہ ڈال رہے ہیں آج کاموضوع ابھی حرف حر ف لہولہواسی وجہ سے لکھاہے کہ وہ گھرانے جنہوں نے آج تک پاکستان کوتسلیم نہیں کیاجنہوں نے پاکستان میں دفن ہونابھی پسندنہ کیاآج اسی نسل کے افرادپاکستان اورنئی حکومت پرآوازے کستے نظرآتے ہیں گزشتہ ادوارکی دومعتبرسیاسی پارٹیاں آج ملک کی خیرخواہی میں ایک دوسرے پربازی لے جانے کی کوشش کررہی ہیں ملک کادیوالیہ نکالنے والے آج ملک بچانے کی باتیں کررہے ہیں صرف اورصرف تیس سالوں میں سینماٹکٹ بیچنے والے سے لیکرایک فیکٹری کے منشی تک ایک پٹواری سے لیکراسلامی مدرسہ چلانے والے تک ایک سائیکل پررپورٹنگ کرنے والے سے لیکرلینڈکروزرمیں سفرکرنے والے تک الغرض کس کس کاذکرکروں جس کی دم اٹھالیں مادی نکل آتی ہے آ ج کااصل مسئلہ یہ نہیں کہ آج ہم کس مشکل حال میں ہیں بلکہ آج کانازک ترین مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس حال تک کیسے پہنچے اورکس کس نے بھوکی ننگی عوام کوقرضوں کے بوجھ تلے دبایاسرے محل ‘ایوان فیلڈ’دبئی میں ٹاورز’لندن میںجائیدادیں پاکستان کے اداروں کی تباہی وہ ملک جس کودنیامیں اہم ترین مقام حاصل ہے معدنیات’قدرتی موسم یوتوپہلی اسلامی ایٹمی قوت محل وقوع کے اعتبارسے انتہائی اہمیت کاحامل ‘سمندر ‘پہاڑ’ دریا’ جنگل الغرض اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بے حدنعمتوں کے باوجودآج ہم ایک بھیک مانگنے پر مجبور ہیں دنیاکی صف اول کی فوج ہمارے پاس ہے ہم پھربھی مارکھارہے ہیں
ہماری بربادی کی اصل وجہ کرپشن ہے اورجس ملک’ قوم’ ادارے حتیٰ کہ کسی گھرمیں کرپشن آجائے وہ بربادہوجاتاہے اوریہاں کم وبیش پچھلے تیس سالوں سے یہ اصول بن چکاہے کہ جوجتنی زیادہ کرپشن کرے گاملک کولوٹے گاوہ اتناہی بڑا ‘ معتبراورایک خیرخواہ کہلوائے گااس میں ہم عوام بھی اتنی ہی گناہ گارہیں جہاں صورتحال یہ ہوکہ ایک سکول میں ہیڈماسٹرکلاس انچارج سے یہ کہے کہ تمام بچوں سے30روپے پیپرفنڈوصول کرناہے ٹیچر نے بچوں سے50روپے گھرسے لانے کوکہے اوربچہ اپنی امی سے جاکر100روپے پیپر فنڈکے نام سے مانگے اورشام کوبچے کی ماں اپنے خاوندسے200روپے پرچہ فنڈسکول میں دینے کیلئے مانگے توپھرمیراملک کیاترقی کرے گا؟پھرمیں اپنالہوکس کے ہاتھ پہ تلاش کروں کیونکہ ہرایک شخص نے پہنے ہوئے ہیں دستانے جب اپنی ایک بوٹی کیلئے دوسرے کا بکرا ذبع کرنابھی جائز تصور کیا جائے۔
جب صرف اورصرف یہ سوچ ہوکہ کیسے ترقی کرسکتاہوں میں کیسے کامیاب ہوسکتاہوں آج انتہائی دکھ سے لکھ رہاہوں کہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں کیونکہ قوم کاایک نصب العین ہوتاہے اور ہجوم کاکوئی مقصدنہیں ہواکرتاقوم کاایک راہبرہوتاہے اورہجوم کاکوئی رہبرنہیں ہوتازندہ قومیں آزمائشیں آنے پراورمضبوط ہوجاتی ہے اورہجوم تتربترہوجاتاہے دوبارہ اپنی کہانی کی طرف آتاہوں کہ نوجوان کی خواہش سن کرجب لوگوں نے اپنے گریبان میںجھانکاتوواپس چلے گئے اورسنگ ساری سے بازآگئے لیکن آج کے ستم ظریف تومزے لے لے کراپنے ہی ملک کی بربادی پردادوصول کررہے ہیں ایک مشورہ وزیراعظم عمران خان کے نام جب بڑی چھلانگ لگانی ہوتوچندقدم پیچھے بھی ہٹناپڑتاہے آج آپ اورملک کاسب سے بڑافیصلہ معاشی بدحالی ہے اس کوون پوائنٹ ایجنڈابنائیں باقی کا موں کیلئے پانچ سال کافی ہیں اگر یہاں فیل ہوگئے توباقی تبدیلی کی باتیں صرف خواب رہ جائینگی۔
ایک مشورہ عوام کے نام گزشتہ کم وبیش 30سالوں کاگندپچاس دنوں میں ختم نہیں ہوگااس نئی حکومت کوپانچ سال کام کرنے دیں پھراحتساب کریں اگریہ حکومت عوام کی خدمت کرنے میںناکام ہوتی توسب سے پہلاشخص میں ہونگاجواس حکومت کے خلاف بھرپورمخالفت کروں گا۔
12اکتوبر2018ئ

